5 ستمبر 2011 - 19:30

اسرائيل کے ساتھ سفارتي تعلقات کو محدود کردينے کے فيصلے کے بعد ترکي نے اپنے ملک ميں موجود اسرائيلي سفارتکاروں کو ملک سے نکل جانے کا الٹي ميٹم دے ديا ہے .

ابنا: ترک حکومت نے اعلان کيا ہے کہ اسرائيل کے نائب سفير اور اسرائيلي سفارتخانے کے ديگر اہم عہديداروں سے کہہ ديا گيا ہے کہ وہ دو دن کے اندر ملک سے نکل جائيں -

ترکي کے وزير خارجہ احمد داؤد اوغلو نے گذشتہ جمعے کو اعلان کيا تھا کہ ترکي نے اسرائيل کے ساتھ تمام سفارتي اور فوجي تعلقات کو معطل اور اسرائيلي سفير کو ملک سے نکال ديا ہے - ترکي نے صہيوني ریاست کے ساتھ اپنے تمام سفارتي اور فوجي تعلقات ايک ايسے وقت معطل کئے ہيں جب اسرائيل نے مرمرہ بحري جہاز پر اسرائيلي کمانڈوز کے حملوں کي بابت ترکي سے معافي مانگنے سے انکار کرديا ہے -

ياد رہے کہ گذشتہ سال اکتيس مئي کو اسرائيلي کمانڈوز نے غزہ کے محصور عوام کے لئے امدادي سامان لے جانے والے پہلے کاروان آزادي کے مرمرہ بحري جہاز پر حملہ کرديا تھا جس ميں نو امن کارکن شہيد ہوگئے تھے - ان کارکنوں کا تعلق ترکي سے تھا - اس حملے ميں پچاس کارکن زخمي بھي ہوئے تھے - ترکي کے وزير خارجہ نے اعلان کيا ہے ان کا ملک صہيوني ریاست کے ذريعے غزہ کےچار سالہ محاصرے کے مسئلے کو ہيگ کي عالمي عدالت ميں اٹھائے گا. ............

/169